باب اول
وہ
وعدہ... جو قسمت سے ہار گیا
صبح کی ہلکی ہلکی دھوپ کالج کے سرسبز لان پر بکھری ہوئی تھی۔
درختوں سے گرتے ہوئے زرد پتے ہوا کے دوش پر رقص کر
رہے تھے۔
نئے تعلیمی سال کا پہلا دن تھا۔
ہر طرف قہقہے، خوشیاں، نئی دوستیاں اور خوابوں کی چہل
پہل تھی۔
لیکن ان سب کے درمیان...
ایک لڑکی خاموشی سے لائبریری کی سیڑھیوں پر بیٹھی
اپنی کتاب کے اوراق پلٹ رہی تھی۔
اس کا نام...
سیا تھا۔
سادہ سفید لباس...
کھلے ہوئے لمبے بال...
چہرے پر عجیب سا سکون...
اور آنکھوں میں ایسے خواب...
جنہیں شاید وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پائی تھی۔
وہ خوبصورت ضرور تھی...
لیکن اس کی خوبصورتی شور نہیں مچاتی تھی...
بلکہ دل میں خاموشی سے اتر جاتی تھی۔
ادھر...
کالج کے گیٹ سے ایک موٹر سائیکل اندر داخل ہوئی۔
ہوا سے کھیلتے بال...
چہرے پر مسکراہٹ...
اور آنکھوں میں بے شمار خواب۔
یہ آرو تھا۔
وہ نہ کسی امیر خاندان سے تھا...
نہ کسی بڑے کاروباری گھرانے سے۔
اس کے والد ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔
اور اس کی سب سے بڑی دولت...
اس کی محنت اور خودداری تھی۔
کالج میں ہر کوئی اسے پسند کرتا تھا۔
کیونکہ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں
ہٹتا تھا۔
کلاس کا پہلا لیکچر شروع ہونے والا تھا۔
تمام طلبہ جلدی جلدی اپنی نشستوں پر بیٹھ رہے تھے۔
اسی جلدبازی میں...
سیا کی کتاب اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گئی۔
کئی کاغذ فرش پر بکھر گئے۔
وہ جھک کر انہیں سمیٹنے ہی والی تھی کہ...
ایک اور ہاتھ بھی انہی کاغذوں کی طرف بڑھا۔
دونوں کے ہاتھ ایک ہی صفحے پر آ کر رک گئے۔
ایک لمحہ...
بس ایک لمحہ...
دونوں کی نظریں ملیں۔
وقت جیسے اچانک تھم گیا۔
کلاس روم کی آوازیں...
طلبہ کی باتیں...
سب کچھ دھندلا سا ہو گیا۔
آرو نے مسکراتے ہوئے کہا...
"شاید یہ کتاب مجھ سے پہلے آپ سے ملنا چاہتی تھی۔"
سیا نے نظریں جھکا لیں۔
اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
"شاید..."
بس یہی ایک لفظ۔
مگر آرو کو لگا...
جیسے پوری دنیا نے اس سے بات کر لی ہو۔
اس دن کے بعد...
لائبریری کے خاموش کونے...
کالج کی کینٹین...
سرسبز باغ...
اور لمبے راہداریوں کے راستے...
ان دونوں کے قدم اکثر ایک ہی سمت چلنے لگے۔
پہلے سلام ہوا...
پھر باتیں ہوئیں...
پھر ہنسی...
اور پھر...
خاموشیاں بھی خوبصورت لگنے لگیں۔
ایک دن...
بارش ہو رہی تھی۔
کالج کی چھٹی ہو چکی تھی۔
ہر طرف بھیگتی ہوئی راہیں تھیں۔
سیا چھت کے نیچے کھڑی بارش رکنے کا انتظار کر رہی
تھی۔
تبھی آرو اس کے پاس آیا۔
اس کے ہاتھ میں ایک چھتری تھی۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا...
"اگر اجازت ہو... تو یہ بارش ہم آدھی آدھی بانٹ لیتے ہیں۔"
سیا پہلی بار دل کھول کر ہنس پڑی۔
دونوں ایک ہی چھتری کے نیچے چلنے لگے۔
ہوا بار بار چھتری کو اڑا دیتی...
بارش کے قطرے دونوں کے چہروں کو چھو جاتے...
اور ہر بار...
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیتے۔
راستہ زیادہ لمبا نہیں تھا...
مگر اس دن...
کسی کو منزل تک پہنچنے کی جلدی نہیں تھی۔
اسی شام...
آرو نے اپنی ڈائری میں لکھا:
"آج پہلی بار محسوس ہوا... کہ کچھ لوگ زندگی میں اچانک نہیں
آتے... شاید وہ قسمت کی سب سے خوبصورت تحریر ہوتے ہیں۔"
ادھر...
سیا نے بھی اپنی ڈائری کھولی۔
کافی دیر تک خالی صفحے کو دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے لکھا...
"پتہ نہیں کیوں... مگر آج بارش پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی
تھی..."
وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔
دوستی...
رفتہ رفتہ محبت میں بدل گئی۔
اب دونوں ایک دوسرے کے بغیر کالج کا ایک دن بھی تصور
نہیں کر سکتے تھے۔
ہر کامیابی...
ہر خوشی...
ہر خواب...
دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے تھے۔
ایک دن...
کالج کے پچھلے باغ میں...
جہاں ایک پرانا برگد کا درخت تھا...
آرو نے سیا کو وہاں بلایا۔
شام ڈھل رہی تھی۔
ہوا میں پھولوں کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔
آرو کی آواز آج معمول سے زیادہ سنجیدہ تھی۔
اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چاندی کی انگوٹھی
نکالی۔
وہ کوئی قیمتی انگوٹھی نہیں تھی...
مگر اس میں ایک سچے دل کی پوری کمائی چھپی ہوئی تھی۔
وہ سیا کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
"میرے پاس دولت نہیں..."
"بڑا گھر نہیں..."
"لیکن ایک دل ہے..."
"جو ہر دھڑکن کے ساتھ صرف تمہارا نام لیتا ہے۔"
سیا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
آرو نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا...
"وعدہ کرو..."
"اگر شادی ہوگی... تو صرف مجھ سے..."
سیا نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
پھر آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
اور کہا...
"میں وعدہ کرتی ہوں..."
"اگر میری قسمت میں کسی کا نام لکھا ہے... تو وہ صرف آرو ہے۔"
ہوا نے زور سے چل کر برگد کے پتوں کو ہلایا...
جیسے قدرت بھی اس وعدے کی گواہ بن گئی ہو۔
دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
انہیں کیا معلوم تھا...
کہ قسمت خاموشی سے ان کی خوشیوں کا حساب لکھ رہی ہے۔
باب اول کا اختتام
اگلے باب میں...
ایک ایسا طوفان آنے والا تھا...
جو صرف ایک محبت نہیں...
دو زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔

0 Comments