باب دوم
خاموش
جدائی
"کچھ جدائیاں ایسی ہوتی ہیں... جن میں آوازیں نہیں ہوتیں، مگر
دل عمر بھر چیختا رہتا ہے۔"
برگد کے درخت کے نیچے کیا گیا وہ وعدہ...
اب دونوں کی زندگی کا سب سے خوبصورت راز بن چکا تھا۔
آرو اور سیا کی محبت اب پورے کالج میں مثال بن گئی تھی۔
دوست اکثر مذاق میں کہتے...
"اگر محبت دیکھنی ہو تو آرو اور سیا کو دیکھو۔"
دونوں ہنس دیتے...
مگر دل ہی دل میں اپنے مستقبل کے خواب بُننے لگتے۔
آرو اکثر شام کو سیا کو اُس کے گھر کے قریب تک چھوڑنے
جاتا۔
وہ دونوں ایک چھوٹے سے پل پر چند لمحے ضرور رکتے۔
وہ پل...
ان کی محبت کا خاموش گواہ بن چکا تھا۔
ایک دن...
سیا نے مسکراتے ہوئے پوچھا...
"اگر کبھی قسمت نے ہمیں جدا کر دیا تو؟"
آرو نے فوراً اس کی بات کاٹ دی۔
**"قسمت صرف اُن لوگوں کو جدا کرتی ہے...
جن کی محبت کمزور ہو۔
ہمارا رشتہ اللہ نے بنایا ہے...
دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔"**
سیا نے بے اختیار اُس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
مگر...
زندگی اکثر وہاں سے بدلتی ہے...
جہاں انسان سب سے زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔
ایک شام...
آرو گھر واپس پہنچا۔
دروازہ کھلا تو گھر کا ماحول عجیب سا تھا۔
اس کی ماں کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔
والد خاموش بیٹھے تھے۔
اور اُس کی چھوٹی بہن...
کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔
آرو گھبرا گیا۔
**"امی...
کیا ہوا؟"**
کسی نے جواب نہ دیا۔
کافی دیر بعد...
والد نے آہستہ سے کہا...
**"بیٹا...
تمہاری بہن کا رشتہ خطرے میں ہے۔"**
آرو کے قدم جیسے زمین میں دھنس گئے۔
اُدھر...
سیا اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی مسکرا رہی
تھی۔
وہ اپنی شادی کے بعد کے خواب دیکھ رہی تھی۔
اُسے یقین تھا...
اب ان کے درمیان کوئی دیوار نہیں آ سکتی۔
اس نے اپنی ڈائری نکالی...
اور لکھا...
**"آج دل عجیب خوش ہے...
شاید محبت واقعی قسمت بدل دیتی ہے۔"**
اُسے کیا معلوم تھا...
کہ اسی وقت...
قسمت اس کے نصیب کا پورا صفحہ بدل رہی تھی۔
چند دن گزر گئے۔
آرو پہلے جیسا نہ رہا۔
وہ کالج تو آتا...
مگر خاموش رہتا۔
نہ ہنستا...
نہ مذاق کرتا...
نہ پہلے کی طرح سیا سے ملنے کی ضد کرتا۔
سیا نے کئی بار پوچھا...
"کیا بات ہے؟"
ہر بار...
صرف ایک جواب ملتا...
"کچھ نہیں..."
"کچھ نہیں..."
یہ دو لفظ...
سیا کے دل میں ہزار سوال پیدا کر رہے تھے۔
ایک دن...
سیا حسبِ معمول برگد کے درخت کے نیچے اُس کا انتظار
کرتی رہی۔
ایک گھنٹہ...
دو گھنٹے...
سورج غروب ہو گیا...
مگر آرو نہیں آیا۔
اُس نے فون کیا...
فون بند تھا۔
پیغام بھیجا...
کوئی جواب نہ آیا۔
پہلی بار...
اُسے محسوس ہوا...
کہ خاموشی بھی انسان کو توڑ سکتی ہے۔
رات کے تقریباً گیارہ بجے...
سیا کی آنکھ لگنے ہی والی تھی کہ موبائل کی گھنٹی
بجی۔
اس نے فوراً فون اٹھایا۔
اسکرین پر نام لکھا تھا...
آرو...
اُس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
کانپتے ہاتھوں سے اُس نے کال ریسیو کی۔
"آرو... کہاں ہو؟ میں کب سے..."
دوسری طرف مکمل خاموشی تھی۔
صرف کسی کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔
پھر...
بغیر ایک لفظ کہے...
فون کٹ گیا۔
سیا ساری رات اُس بند فون کو دیکھتی رہی۔
اُسے محسوس ہوا...
جیسے آرو کچھ کہنا چاہتا تھا...
مگر کہہ نہ سکا۔
اگلی صبح...
آرو کالج ہی نہیں آیا۔
پھر اگلے دن بھی نہیں۔
پھر پورا ہفتہ گزر گیا۔
کسی کو معلوم نہیں تھا...
کہ وہ کہاں ہے۔
اور پھر...
ایک صبح...
پورا شہر ایک ہی خبر سے گونج اٹھا...
"شہر کے معروف صنعت کار کی بیٹی کی شادی آرو سے طے ہو گئی ہے..."
یہ خبر...
سیا کے دل پر بجلی بن کر گری۔
اُس نے اخبار اپنے ہاتھ سے گرنے دیا۔
آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
ہونٹ کانپ رہے تھے۔
دل ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔
وہ بار بار خود سے ایک ہی سوال پوچھ رہی تھی...
**"جس نے ہمیشہ ساتھ رہنے کا وعدہ کیا تھا...
وہ اتنی آسانی سے کسی اور کا کیسے ہو گیا؟"**
اسی شام...
سیا نے اپنی ڈائری کا آخری صفحہ کھولا۔
کانپتے ہاتھوں سے صرف ایک جملہ لکھا...
**"آج صرف میری محبت نہیں مری...
آج مجھ میں جینے کی خواہش بھی دفن ہو گئی..."**
اس نے ڈائری بند کی...
اور پہلی بار...
زور زور سے رونے لگی۔
باب دوم کا اختتام
اگلے باب میں...
آرو کی شادی...
سیا کی ٹوٹی ہوئی دنیا...
اور وہ راز...
جسے جاننے میں پندرہ سال لگ جائیں گے...
0 Comments